نئی دہلی، 29؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )بیجو جنتا دل کے ایک رکن نے لوک سبھا میں مطالبہ کیا کہ دودھ دینا بند کر دینے والی گایوں اور کاشتکاری کے لیے ناقابل استعمال ہو جانے والے بیلوں، بھینسوں کے لیے کوئی پالیسی بنانے کے بارے میں حکومت کو غور کرنا چاہیے ۔وقفہ صفر میں بی جے ڈی کے تتھاگت ستپتی نے کہا کہ گاؤں میں جب گائے، بھینس اور بیل کسان کے لیے کارآمد نہیں رہتے تو اسے ان کو سلاٹر ہاؤس میں فربیچنے کے لیے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔انہوں نے گائے سے جڑے ہندو مذہب کے جذبات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہاکہ ایک ہندو ہونے کے ناطے میں چاہتا ہوں کہ گایوں کے تحفظ پر یہاں ایوان میں بحث ہونی چاہیے ۔اس پر لوک سبھا صدر نے کہاکہ آپ نوٹس دیں،ہم غور کریں گے۔بی جے پی کے وریندر سنگھ نے کہا کہ پہلے گاؤں میں گایوں کے لیے الگ سے زمین ہوتی تھی جن پر بعد میں قبضہ کرکے گھر بنا لئے گئے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو گاؤں میں گؤ شالاؤں کی تعمیر کے لیے قدم اٹھانا چاہیے ۔کانگریس کے کے سی وینو گوپال نے ماہی گیروں کے مسئلہ کو اٹھاتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتیں ماہی گیروں کو گھروں کی تعمیر کے لیے فنڈ دیتی ہیں لیکن ساحلی ریگولیشن علاقہ (سی آر ز یڈ) کے قوانین میں پابندی کی وجہ سے وہ گھر نہیں بنا سکتے۔انہوں نے کہا کہ پہلے ایک سیشن میں سابق وزیر ماحولیات نے کہا تھا کہ سی آر زید کے قوانین میں تبدیلی کی جائیں گی لیکن کل ایوان میں ایک سوال کے جواب میں وزیر ماحولیات نے کہا ہے کہ قوانین میں تبدیلی کی فی الحال کوئی تجویز نہیں ہے۔وینو گوپال نے کہا کہ وزیر کا جواب مایوس کن ہے اور حکومت کو پابندی ہٹانے کا راستہ نکالنا چاہیے ۔